نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بجلی کے بلوں کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا


 ‏اگر آپ بجلی کے بڑھتے ریٹس پر یونہی چپ سادھے بیٹھے رہے تو لکھ لیجیے ایک دن بجلی کا بل آپ کی آمدنی کے برابر آ جائے گا ۔۔


کہ نیپرا دسمبر تک مزید تیرہ روپے فی یونٹ اضافے کی کوشش میں ہے ، یعنی  73 روپے فی یونٹ ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایسے گھرانے جن کے گھر صرف ایک پنکھا ، چار بلب اور پانی کی موٹر ہے وہ 200 یونٹس خرچ کرنے پر ماہانہ 16000 ہزار بل کی مد میں دیں گے ۔ 

اب خود سوچیے جس کے گھر میں صرف  ایک پنکھا اور چار بلب ہوں اس کی ماہانہ آمدن کتنی ہوگی ۔۔۔۔ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد وہ باقی اخراجات کیسے پورے کرے گا ؟ 


اور اس حساب سے وہ مڈل کلاسیے جن کے گھر فریج ، موٹر ، استری اور واشنگ مشین بھی ہے وہ ماہانہ بجلی کا بل ادا کرسکیں گے ؟ جن کے اب بھی بل بیس ہزار تک آ رہے ہیں وہ اتنے ہی یونٹس کی کھپت پر اگلے سال ماہانہ پینتس ہزار دے سکیں گے ؟ تب کمیٹی ڈال کر بھی شاید بل نہ ادا ہوسکے ۔۔۔ 

اور ایک اے سی والے گھرانے تو ماہانہ ستر ہزار بل کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ۔۔۔ 

اپ یقین کیجیے ۔۔۔ میں نے کم آمدنی والوں کو بجلی کا بل پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ہے ۔۔ ان کی آنکھوں کی بے بسی دل چیر دیتی ہے ۔ 

خدا کے لیے اس ڈکیتی پر آواز تو اٹھائیے ۔۔ 


اب نہیں بولو گے ۔۔۔ تو کب بولو گے ؟ 

کوئی کمیٹی ، کوئی احتجاج ، کوئی آواز ۔۔۔۔ خدارا کچھ تو کہیے ۔۔۔ 

حال ہی میں جس طرح آزاد  کشمیر میں یونٹ مہنگا ہونے پر لوگوں نے بل جمع کروانے سے انکار کیا ، مساجد میں اعلان ہوئے کہ بل نہ جمع کرائے جائیں ، سینکڑوں لوگ سڑکوں پر آگئے تو سرکار نے اضافہ واپس لے لیا ۔۔۔ 

پھر آپ کیوں گونگے ، بہرے اور اندھے بن کے بیٹھے ہیں ؟ 


ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر مساجد میں اکٹھے ہو کر لائحہ عمل تیار کریں ۔ کمیٹی بنائیں ، ہر محلے ، ہر ٹاون ، ہر شہر کے لوگ بل جمع کروانے کی بجائے واپڈا سب ڈویژن  ، نیپرا آفس اور کے الیکٹرک کے سامنے احتجاج کریں ۔۔۔ مہم چلائیں ، بل جمع کرانے سے انکار کردیں ۔۔ پھر شاید یہ ماہانہ بڑھتا ہوا اضافہ رک جائے ۔ شاید غریب لوگ بلوں کی ڈکیتی سے پیسے بچا کر اپنے بچوں کے منہ میں نوالہ ڈال سکیں ۔ 

عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتے تو سوشل میڈیا پر آواز اٹھائیے ۔ نہیں تو وہ وقت قریب ہے جب آپ کھانے اور پہننے کی بجائے صرف بجلی کا بل ادا کریں گے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غربت ‏اور ‏مہنگائی ‏کے ‏ہوتے ‏ہوئے

کورونا کی وبا کے دوران نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن نے عوام کا جینا دوبھر کیا۔ کئی ماہ کی بندش نے کاروباری ماحول کو مٹی میں ملادیا۔ بیروزگاری کیا کم تھی‘ اب مہنگائی نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ کھانے پینے کی اشیا روز بروز مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ بعض اشیا کے دام بے قابو ہوچکے ہیں۔ حکومت اس صورتحال میں یکسر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ وزیر اعظم جس چیز کی قیمت کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہیں وہ مزید مہنگی ہو جاتی ہے! اس وقت ملک بھر میں بیشتر اشیائے صرف کے دام خطرناک حد تک بڑھے ہوئے ہیں۔ مہنگائی نے قیامت سی ڈھائی ہوئی ہے۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (تنظیم برائے پائیدار ترقی) نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس وقت جنوبی ایشیا میں سب زیادہ افراطِ زر (مہنگائی) پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت افراطِ زر میں اضافے کی شرح 9 فیصد ہے جبکہ بھارت میں 7.34 فیصد، بنگلہ دیش میں 5.97 فیصد اور سری لنکا میں 4.1 فیصد ہے۔ پاکستان میں آٹا 60 سے 70 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ بھارت میں اس وقت آٹا 28 روپے، بنگلہ دیش میں 41 ٹکا اور سری لنکا میں 93 روپے...

بڑے لوگوں کے بڑے واقعے

 مجھے پرفیوم کی خوشبو اچھی لگتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ لانگ واشنگ ہو، اس حوالے سے پرابلم یہ ہے کہ مارکیٹ میں بلکہ بیرون ملک بھی دو نمبر پرفیوم کی برمار ہے، آپ آدھی بوتل خود پر چھڑک لیتے ہیں مگر مجال ہے کسی دوسرے کے ناک میں اس کی ’’بھنک‘‘ بھی پڑ جائے، اس کے لئے مخاطب سے جپھی ڈالنا پڑتی ہے، میں آنے بہانے کووڈ کی پروا کئے بغیر دوستوں کو جپھیاں ڈالتا ہوں کہ کاش وہ کبھی کہیں کہ واہ کیسی عمدہ بھینی بھینی خوشبو ہے مگر یہ کبھی سننے میں نہیں آیا، سو اب میں کسی ایسی ’’تیز دھار‘‘ پرفیوم کی تلاش میں ہوں کہ میرے آفس میں داخل ہونے والا اس کی تیز خوشبو کی وجہ سے چھینک چھینک کر ادھ موا ہو جائے اس کے علاوہ کوئی ایسی پرفیوم بھی ہونی چاہئے جو لباس کی بُو کے علاوہ ان خیالات کی بُو بھی مار سکے جو بہت خوشحالی میں بھی کسی سے ملتے وقت ذہن میں چل رہے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی پرفیوم ابھی ایجاد نہیں ہو سکی اور ہونی بھی نہیں کہ دنیا کا بیشتر نظام اِس منافقت سے چل رہا ہے۔ میری ایک خواہش اور بھی ہے وہ یہ کہ کوئی صاحب بوقت ملاقاتِ یہ نہ پوچھے پہچانا، ’’بندہ ان سے پوچھے کیا آج تک کوئی شخص ک...

پاکستان ‏میں ‏طالبان ‏والے ‏حالات ‏نہیں

لاکھ کمزوریاں ہماری اور اُن کمزوریوں کا اعتراف بھی ہم کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے معاشرے کو برا بھلا کہتے ہیں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی تمام کمزوریوں اور مسائل کے باوجود یہ معاشرہ بہتوں سے بہتر ہے۔ رشوت ہے کرپشن ہے نااہلی اور کاہلی ہے لیکن اِس میں خوبیاں بھی ہیں۔ خوبیاں نہ بھی ہوں تو ہم میں سے اکثریت کیلئے یہی ایک گھر ہے۔ تلاشِ معاش میں ہمارے لوگ اِدھر اُدھر جاتے ہیں‘ لیکن گھوم پھر کے گھر اِسی کو کہتے ہیں۔ اِسی سے ہم مانوس ہیں۔ اِسی میں اپنائیت ملتی ہے۔ لہٰذا افغانستان جانے اور وہاں کے طالبان۔ ہماری امید اُن سے یہی ہے کہ وہاں امن رہے تاکہ تخریب کاری یا اور قسم کے شر وہاں سے یہاں نہ آئیں۔ ہم جہاد کے نام پہ بہت کچھ بھگت چکے ہیں، مزید بھگتنے کا ہم میں دم نہیں۔ تجارت رہے بلکہ فروغ پائے، آمدورفت بڑھے، ہم کابل جا سکیں اور وہاں سے وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچ سکیں۔ ایسا ہو سکے تو کتنا سہانا لگے۔ یہ عجیب دردِ سر ہے کہ ازبکستان جانا ہو تو پہلے دبئی جانا پڑتا ہے۔ ستیاناس ہو اُن کا جو پاکستان کی قومی ایئرلائن کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اِدھر اُدھر کے ہوائی سفر کا مرکز اسلا...